بعض بیانات اور دعوتی مجالس میں یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے امتِ محمدیہ میں پیدا ہونے کی تمنا کی تھی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا قبول ہوئی، اس لیے وہ آخر زمانے میں اس امت میں آئیں گے۔ لیکن یہ بات کسی صحیح، معتبر اور مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
اہلِ علم کی تحقیق کے مطابق انبیائے سابقین علیہم السلام کا امتِ محمدیہ میں پیدا ہونے کی تمنا کرنا کسی مستند روایت سے ثابت نہیں۔ بعض کتابوں میں اس طرح کی روایات کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن وہ یا تو انتہائی درجے کی ضعیف ہیں یا بلکل موضوع ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
امتِ محمدیہ کے فضائل بیان کرنے کے لیے قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں بے شمار مستند دلائل موجود ہیں۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ فضائلِ امت کے بیان میں انہی باتوں کو ذکر کیا جائے جو صحیح اور معتبر نصوص سے ثابت ہوں، اور ایسی غیر ثابت روایات کے بیان سے اجتناب کیا جائے۔
دین کی باتوں میں احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ ہم وہی بات آگے پہنچائیں جو معتبر دلائل سے ثابت ہو، خصوصاً جب معاملہ انبیائے کرام علیہم السلام اور فضائلِ دین سے متعلق ہو۔
جزاک اللہ خیرا
پیشکش :- مولانا حسن عمار ندوي
اس سلسلے میں دار العلوم دیوبند کا فتوی (نیچے لنک موجود ہے) ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
https://darulifta-deoband.com/home/ur/hadith-sunnah/168466
Disclaimer: This article gives the views of the author, and not the position of the FIKR organization

