یہ تحریر ان تمام علماء اور مدرسہ اداروں کے سربراہوں کے لیئے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مدرسہ کی تعلیم کا مقصد صرف “عالمِ دین” پیدا کرنا ہے، اور یہ کہ اگر کوئی ڈاکٹر یا انجینیئر بننا چاہتا ہے تو وہ کہیں اور جائے۔ یہ نقطۂ نظر بظاہر معقول لگتا ہے، لیکن گہرائی سے دیکھیں تو یہ نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی نقصاندہ بھی ہے۔ یہ بحث کوئی نئی بحث نہیں ہے، ہمارے بہت سے دور اندیش اکابرین کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان سب نے اپنی پوری زندگی کو اسی تنگ نظری اور جمود کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اور اس باریک بات کو سمجھاتے ہوئے صرف کیا۔
سب سے پہلے اس بنیادی مغالطے کو سمجھنا ضروری ہے جس پر یہ پوری سوچ کھڑی ہے، اور وہ یہ ہے کہ علم کو “دینی اور دنیاوی” دو الگ خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ مولانا علی میاں ندویؒ نے اس تقسیم کو ہی غیر اسلامی قرار دیا۔ ان کا نظریہ تھا کہ اسلام میں علم کی تقسیم “دینی اور دنیاوی” کے بجائے “علمِ نافع” اور “علمِ غیر نافع” میں کی گئی ہے۔ ہر وہ علم جو انسانیت کو فائدہ پہنچائے اور کائنات میں اللہ کی معرفت کا ذریعہ بنے، خواہ وہ سائنس ہو، معاشیات ہو یا تاریخ، وہ دین ہی کا حصہ ہے۔ مولانا اپنی کتاب “مغربی رجحانات اور ان میں تبدیلی کی ضرورت” میں لکھتے ہیں کہ جب تک مسلمان دنیا کے امام اور قائد تھے، ہمارے مدارس میں ایک ہی چھت کے نیچے قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ فلکیات، ریاضی اور طب پڑھائی جاتی تھی، اور یہ تقسیم مسلمانوں کے زوال اور انگریزوں کے آنے کے بعد پیدا ہوئی۔ اسلامی تاریخ کا سنہرا دور اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ امت کے سب سے متفکر و متحرک لوگ دین اور دنیا کے علوم میں بیک وقت مہارت رکھتے تھے۔ ابنِ سینا، جن کی کتاب “القانون فی الطب” سات سو سال تک یورپ کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی، وہ بیک وقت فقیہ بھی تھے اور طبیب بھی۔ ابنِ رشد فلسفی بھی تھے، قاضی بھی اور طبیب بھی۔ الکندی، الخوارزمی، البیرونی یہ سب دینی علم کے ساتھ ساتھ ریاضی، فلکیات اور طبیعیات کے امام بھی تھے، اور یہ سب مدارس ہی سے نکلے تھے۔ امام غزالی نے اپنی “احیاء العلوم” میں دنیاوی علوم کو “فرضِ کفایہ” قرار دیا — یعنی اگر امت میں ان علوم کے ماہرین نہ ہوں تو پوری امت گناہگار ہوگی۔
اب اگر کوئی یہ دلیل دے کہ مدارس کا قیام اس مقصد کے لیے ہوا ہی نہیں تھا کہ وہاں کالج اور اسکول کی پڑھائی پڑھائی جائے، بلکہ مدارس صرف دینی تحفظ کے لیے بنے تھے، تو یہ دلیل تاریخ کی ادھوری اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہر دور کے ادارے، تحریکیں اور نظام اپنے وقت کے تقاضوں کی پیداوار ہوتے ہیں۔ جب ہم مدارسِ عربیہ کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ایک انتہائی اہم سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا مولانا قاسم نانوتویؒ نے جب مدارس قائم کیے تو انہوں نے کوئی ابدی و ناقابلِ تبدیل نصاب مرتب کیا تھا، یا انہوں نے اپنے دور کے مخصوص حالات و تقاضوں کو سامنے رکھ کر ایک ہنگامی و حکیمانہ حل نکالا تھا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ۱۸۵۷ء کے بعد کے ہندوستان کی تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے لانی ہوگی۔
۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی حالت اس مسافر جیسی تھی جس کا سفینہ طوفان میں ڈوب گیا ہو اور وہ کھلے سمندر میں بغیر سہارے کے ہاتھ پاؤں مار رہا ہو۔ یہ محض ایک سیاسی شکست نہ تھی، یہ ایک پوری تہذیب کے خاتمے کی کوشش تھی۔ مسلمانوں کی جائدادیں ضبط ہوئیں، اوقاف چھینے گئے، حکومت و اقتدار کا چراغ گُل ہوا، اور سب سے بڑھ کر ان کا دینی، علمی اور فکری ڈھانچہ تہ و بالا ہوگیا۔ خطرات صرف باہر سے نہ تھے — داخلی محاذ پر بھی طوفان برپا تھا۔ عیسائی مشنریاں یورپ سے آئیں اور مشن اسکولوں کی آڑ میں مسلمان بچوں کے ذہن بدلنے میں مصروف ہوگئیں۔ آریہ سماج کی تحریک نے مسلمانوں کو ہندو مت کی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ قادیانیت نے ختمِ نبوت کے بنیادی عقیدے پر ضرب لگائی۔ ایسے نازک اور خطرناک حالات میں مولانا قاسم نانوتویؒ نے جو تشخیص کی، وہ ایک حکیم کی تشخیص تھی۔ انہوں نے بھانپ لیا کہ اگر قوم میں علم و اخلاق اور ذہن و فکر میں خود ارادیت باقی نہ رہی تو سیاسی آزادی بھی بے معنی ہوجائے گی، اور اسی فہم و فراست کے تحت انہوں نے ۱۸۶۶ء میں دیوبند میں مدرسے کی بنیاد رکھی۔ نصاب اس لیے دینی علوم پر مرکوز تھا کیونکہ اُس وقت سب سے بڑا خطرہ دینی تشخص کا مٹنا تھا، نہ کہ سائنسی یا دنیاوی علوم کی کمی۔
یہاں وہ مرکزی نکتہ آتا ہے جس پر پوری بحث کا دارومدار ہے۔ مولانا نانوتویؒ کے اصولِ ہشتگانہ اور ان کے جاری کردہ نظامِ کار کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آفتاب کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ حالات کا تقاضا تھا، کوئی ابدی فریضہ نہ تھا۔۔ روداد 1290 ہجری میں مولانا نانوتویؒ نے صراحت کے ساتھ لکھا کہ یہ مدرسہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم نہیں دی جاتی، لہٰذا یہاں صرف وہ علوم پڑھائے جائیں جو وہاں نہیں پڑھائے جاتے۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ “مدرسہ کے طلباء کو یہاں سے فراغت کے بعد سرکاری اسکولوں میں جاکر علومِ جدیدہ میں کمال پیدا کرنے کی سعی جاری رکھنی چاہیے۔” یعنی مولانا نانوتویؒ نے خود اپنے ہاتھ سے لکھ دیا کہ مدرسہ ابتدا ہے، انتہا نہیں۔ دینی تعلیم بنیاد ہے، پوری عمارت نہیں۔ جو لوگ آج مدرسے کو صرف عالم بنانے کی “مکمل” جگہ سمجھتے ہیں، وہ بانی کے الفاظ سے بھی منہ موڑ رہے ہیں، نہ صرف وقت کے تقاضوں سے۔ اب سوچیے: اگر مولانا نانوتویؒ آج کے دور میں ہوتے تو کیا وہ اسی نصاب پر قائم رہتے؟ ہرگز نہیں! اور اس کی وجہ بھی وہی اصول ہے جو انہوں نے خود اختیار کیا تھا، یعنی وقت کی ضرورت کو پہچانو اور اس کے مطابق قوم کو ڈھالو۔ آج سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں کی معاشی، سائنسی اور تکنیکی پسماندگی ہے، لہٰذا نانوتویؒ کی اپنی منطق یہی کہتی ہے کہ جو خطرہ سب سے بڑا ہو اس سے پہلے نمٹو۔ آج جو علماء اور مدارس اس حقیقت کو سمجھ کر عصری علوم کو دینی تعلیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ درحقیقت نانوتویؒ کی روح کے سب سے سچے ترجمان ہیں، اور جو لوگ ۱۸۶۶ء کے نصاب کو آج بھی ناقابلِ تبدیل سمجھتے ہیں، وہ نانوتویؒ کے الفاظ کو تو تھامے ہوئے ہیں مگر ان کی روح سے بہت دور ہیں۔
اس بحث کا سب سے اہم اور دردناک پہلو غلط فتوؤں کی تاریخ ہے۔ جب کسی عالم کو عصری علوم کا ادراک نہ ہو تو وہ شریعت کے اصولوں کو نئے مسائل پر درست طریقے سے لاگو ہی نہیں کر سکتا، کیونکہ اجتہاد کے لیے موضوع کا علم اتنا ہی ضروری ہے جتنا اصولِ فقہ کا۔ مولانا علی میاں ندویؒ نے اپنی کتاب “انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر” میں دوٹوک لکھا کہ آج اسلام پر جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں، وہ لاٹھی یا تلوار سے نہیں بلکہ جدید فلسفے، سائنس اور فکری نظریات کے ذریعے ہو رہے ہیں، اور ایک عالم جب تک یہ نہیں جانے گا کہ جدید ذہن کس راستے پر سوچ رہا ہے، وہ اسلام کا دفاع کیسے کرے گا۔ جب گٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کی تو بہت سے علماء نے اسے حرام قرار دیا، اور سلطنتِ عثمانیہ میں عربی پرنٹنگ پریس پر تقریباً دو سو سال تک پابندی رہی، جبکہ یورپ اس عرصے میں لاکھوں کتابیں چھاپ کر علمی انقلاب برپا کر رہا تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں مائیکروفون کو بھی ناجائز قرار دینے کی کوشش ہوئی۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ عالم کے پاس تکنیک کا علم نہیں تھا، اور جب علت غلط ہو تو حکم بھی غلط نکلتا ہے — یہ وہی اصولِ فقہ ہے جو مدارس میں پڑھایا جاتا ہے لیکن عملاً نظر انداز ہو جاتا ہے۔
آج کا مسلمان بزنس مین ایک پیچیدہ قانونی اور مالیاتی دنیا میں جی رہا ہے، لیکن اس کے فتوے دینے والے عالم نے نہ GST کا نظام پڑھا ہے، نہ کمپنی لاء، نہ بینکنگ ریگولیشنز۔ جب کوئی مسلمان تاجر کسی عالم سے اپنے کاروباری مسئلے کے بارے میں پوچھتا ہے تو عالم نہ اس کی نوعیت سمجھتا ہے، نہ قانونی خطرہ، اور نہ ہی شرعی حکم درست طریقے سے دے پاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو بالکل منع کر دیتا ہے اور جائز کام بھی چھوٹ جاتا ہے اور اس سے ایک بڑے طبقے کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا پھر اجازت دے دیتا ہے اور حرام کام ہو جاتا ہے۔ “مرابحہ”، “اجارہ”، “مشارکہ” یہ اسلامی فنانس کے اصول ہیں، لیکن ان کو جدید بینکنگ پروڈکٹس سے موازنہ کرنے کے لیے عالم کو بیلنس شیٹ پڑھنا آنا چاہیے۔ آج بہت سے نام نہاد “اسلامی بینک” در حقیقت سودی بینکوں کی نقل ہیں، لیکن عالم چونکہ تکنیکی ڈھانچہ نہیں سمجھتا، اس لیے وہ اصل مسئلہ پکڑ ہی نہیں پاتا۔ اگر آج پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ میں اسلام یا شریعت کے خلاف کوئی قانون بنتا ہے تو وہاں مقدمہ لڑنے کے لیے ہمیں ایسا وکیل چاہیے جو قرآن کا حافظ بھی ہو اور قانون کا ماہر بھی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے قانونی حقوق کی لڑائی اس لیے کمزور پڑ جاتی ہے کیونکہ ان کا نمائندہ عالم آئین، سیکشن اور عدالتی نظائر کی زبان نہیں بولتا۔
دعوت اور تبلیغ کا پہلو بھی انتہائی اہم ہے اور اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ آج کی دنیا میں دعوت کا میدان بدل گیا ہے۔ ایک IIT کا انجینیئر، ایک MBBS ڈاکٹر، ایک سینیئر جج یہ لوگ علمی سطح پر آپ کی بات اسی وقت سنیں گے جب آپ ان کی علمی دنیا سے واقف ہوں۔ ایک عالم جو صرف قرآن و حدیث کی زبان جانتا ہو، وہ ڈاکٹر کو جدید طبی مسائل میں شرعی رہنمائی نہیں دے سکتا، اور نہ ہی انجینیئر کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ فلاں ٹیکنالوجی کا استعمال جائز ہے یا ناجائز۔ مولانا کے خطبات کے مجموعے “ہمارا نصابِ تعلیمی” میں درج ہے کہ مدارس کو صرف ایسی جگہ نہ بنایا جائے جہاں معاشرے کے ہارے تھکے لوگ پناہ لیں، بلکہ مدارس کو ایسی چھاؤنیاں بننا چاہیے جہاں سے دنیا کے فکری دھارے کو موڑنے والے جرنیل اور سالار پیدا ہوں۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے مختلف قوموں کے سفیروں سے ان کی زبان میں بات کی، اور صحابہ نے فارسی، رومی اور مصری تہذیبوں میں دعوت دی تو پہلے ان کی ثقافت، ان کی زبان اور ان کے مسائل سمجھے۔ آج کا پڑھا لکھا طبقہ ایک الگ قوم ہے جس کی زبان سائنس، منطق اور تجربہ ہے، اور اگر ہمارے علماء یہ زبان نہ سیکھیں تو یہ طبقہ دین سے دور رہے گا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ حکمت مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کر لو جب اللہ کے رسول نے علم کو مومن کی میراث بتایا تو ہم اسے “دنیاوی” کہہ کر اچھوت کیسے بنا سکتے ہیں؟
اگلے بیس سال میں ہندوستان میں IIT، IIM، AIIMS سے نکلنے والے لاکھوں مسلم نوجوان ہوں گے جو علمی اعتبار سے اس مقام پر ہوں گے کہ وہ ایک روایتی عالم کی بات کو علمی کسوٹی پر پرکھیں گے۔ اگر عالم کے پاس صرف کتاب و سنت کا حوالہ ہوگا لیکن عصری علوم کا شعور نہیں ہوگا تو یہ نوجوان اس کی بات کو قبول نہیں کریں گے، نہ اس لیے کہ وہ بدنیت ہیں بلکہ اس لیے کہ جو نہیں جانتا اس سے سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے مدارس نے ابھی سے اپنے نصاب کو نہیں بدلا تو اگلی نسل کے پڑھے لکھے مسلمان یا تو سیکولر ہو جائیں گے، یا ایسے “ماڈرن اسکالرز” کی طرف چلے جائیں گے جو بغیر علمِ حدیث اور بغیر اصولِ فقہ کے محض عصری علم کی بنیاد پر فتوے دیں گے۔ یہ اصل خطرہ ہے جو ہمارے مدارس کی موجودہ پالیسی خود پیدا کر رہی ہے۔
اب آئیں اس موضوع پر کہ “ہم کسی کو فورس نہیں کرتے۔” یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے لیکن عملاً یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جب ایک غریب خاندان اپنے بچے کو مدرسے میں بھیجتا ہے تو وہ یہ سوچ کر نہیں بھیجتا کہ میرا بچہ صرف عالم بنے اور کچھ نہ بنے وہ بھیجتا ہے اس لیے کہ وہاں تعلیم مفت ہے، کھانا ملتا ہے، چھت ملتی ہے۔ یعنی اکثر مدرسے کے طلباء وہ بچے ہیں جن کے والدین کے پاس مہنگے اسکول کی سکت نہیں۔ انہیں “آپشن” دے کر آپ فورس نہیں کر رہے — یہ یقینی بات ہے لیکن ان کا اس خطرے سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پر عصری علوم سے دور ہونا طے ہو رہا ہے اور نظام کے اس کے متعلق نہ ہونے کی وجہ سے اس سے دوری ہو جا رہی ہے۔ مولانا علی میاں ندویؒ کا وہ قول یہاں بالکل درست بیٹھتا ہے کہ مدرسے کا بچہ صرف مسجد کا امام یا مدرسے کا خادم بننے کے لیے پیدا نہیں ہوا اسے پوری انسانیت کا قائد بننا ہے، اور اگر اسے عدالت، پارلیمنٹ اور میڈیا میں جا کر حق کی آواز بلند کرنی ہے تو عصری علوم کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ جسے دونوں پڑھنی ہیں وہ پہلے مدرسہ کرے پھر کالج جائے، تو اس راستے میں عمر کا ایک بڑا بحران سامنے آتا ہے۔ عالمیت مکمل کرتے کرتے انسان کی ایک معتدبہ عمر گزر جاتی ہے، اس کے بعد اگر وہ عصری تعلیم کے لیے نکلے تو شادی، گھر، فیملی کی ذمہ داریاں سامنے کھڑی ہوتی ہیں اور عملاً یہ راستہ ممکن نہیں رہتا۔ لیکن اس مسئلے کا حل بھی موجود ہے اور آزمایا ہوا ہے۔ مدرسہ عربیہ تعمیر ملت علی گڑھ، جس کے بانی ڈاکٹر ثناء اللہ خان صاحب ہیں، نے یہ راستہ عملاً دکھایا ہے اور بندہ خود اسی مدرسے کا طالب علم ہے۔ اس نظام میں بچہ ناظرہ سے لے کر حفظ کے مرحلے تک پانچویں جماعت مکمل کر لیتا ہے، پھر عربی ابتدائی سے عربی رابع تک پہنچتے پہنچتے اس کی دسویں جماعت بھی مکمل ہو جاتی ہے یعنی دینی اور عصری تعلیم ساتھ ساتھ چلتی ہے اور عمر بھی ضائع نہیں ہوتی۔ اب اگر اسی ترتیب کو آگے بڑھایا جائے تو عربی پنجم میں گیارہویں، عربی ششم میں بارہویں مکمل ہو، اور عربی ہفتم و دورۂ حدیث کے ساتھ ساتھ طالب علم اپنی پسند کے مطابق NEET کی تیاری کرے، LLB کرے، انجینیئرنگ ڈپلومہ لے، MBA یا CA کرے جو چاہے کرے۔ اس طرح ایک ہی وقت میں ایک مکمل عالم بھی تیار ہوتا ہے اور ایک قابل پیشہ ور بھی، اور نہ عمر ضائع ہوتی ہے نہ دینی تعلیم ادھوری رہتی ہے۔
آخر میں یہ بھی جان لیں کہ یہ کوئی جدید لبرل نظریہ نہیں جو مغرب سے درآمد کیا گیا ہو۔ امام غزالی نے “احیاء العلوم الدین” میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ طب، ریاضی اور انجینیئرنگ جیسے علوم “فرضِ کفایہ” ہیں۔ ابنِ خلدون نے اپنے “مقدمہ” میں لکھا کہ جو قوم عصری علوم نہ سیکھے وہ تہذیبی زوال سے نہیں بچ سکتی۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے “حجۃ اللہ البالغہ” میں اجتہاد کے لیے عصری حالات کا فہم لازم قرار دیا۔ یہ ہماری اپنی علمی روایت کی آواز ہے، اور مولانا علی میاں ندویؒ نے اسی روایت کو اپنی پوری زندگی کا مشن بنایا۔
مدرسے کا بچہ جب صرف ایک خانے میں بند ہو کر نکلتا ہے تو وہ نہ دنیا کو پوری طرح سمجھتا ہے، نہ اس قابل رہتا ہے کہ دنیا کو اسلامی نقطۂ نظر سے درست رہنمائی دے سکے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کا اصل پیغام نصاب کی کوئی مخصوص فہرست نہ تھی، بلکہ ان کا پیغام یہ تھا کہ قوم کو اجتماعی خود ارادیت اور خود اختیاری کی طرف لے جانا فرضِ عین ہے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب تعلیم و تربیت کے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ ایک مکمل عالم وہ ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہر دور کے مسائل کا حل دے سکے، اور ہر دور کے مسائل کا حل دینے کے لیے ہر دور کی زبان اور علم جاننا ضروری ہے۔ یہ دین کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ دین کو مضبوط کرنا ہے۔ اگر آپ واقعی دین کی خدمت چاہتے ہیں تو اپنے طلباء کو صرف ماضی کے لیے نہیں، آنے والے کل کے لیے بھی تیار کریں اس مستقبل کے لیے جس میں کروڑوں نوجوان ان نظریات سے وابستہ ہوں گے جن تک ہم مدارس کی موجودہ پالیسی کے ساتھ پہنچ ہی نہیں سکتے۔
